حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ آذربائیجان شرقی میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین احمد مطہری اصل نے حرم مطہر امام حسین(ع) کے متولی کے خصوصی نمائندہ اور ہمراہ وفد سے ملاقات میں کہا: امام حسین علیہ السلام کی قربت قلبی معرفت اور یقین کے ساتھ ممکن ہے لیکن اگر انسان امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرتا ہے تو اسے بہت سی توفیقات حاصل ہوتی ہیں۔
انہوں نے اس نشست میں موجود عراقی وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آپ جو حرم مطہر کے نگہبان اور زائرین امام حسین علیہ السلام کی معیشت کے حافظ ہیں یقیناً سیدالشہداء علیہ السلام کی قبر مبارک کے پاس آپ کی موجودگی فیوضاتِ عالیہ حاصل کرنے کا باعث ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین احمد مطہری نے مزید کہا: اس بات پر فخر کریں کہ آپ کی خدمت کا مقام امام حسین علیہ السلام کا حرم مطہر ہے کیونکہ یہ سب سے بڑی الٰہی نعمت ہے اور اس کا شکر دائمی ہے۔
تبریز کے امام جمعہ نے کہا: ائمہ معصومین علیہم السلام مصباح الہدیٰ اور سفینہ نجات ہیں۔ ان میں سے امام حسین علیہ السلام کا دامن وسیع ہے اور ان سے تمسک حق تعالیٰ کی زیادہ مغفرت کا باعث ہے۔
انہوں نے عراق میں امن، اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنے میں آیت اللہ سیستانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: اگر آج ہم خطے میں عالمی استکبار کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو اس کا ایک بنیادی کونہ عراقی ہیں جو اس بزرگ مرجعیت کی پیروی میں جہاد کر رہے ہیں۔ اس بزرگ عالم کی مرجعیت داعش کے خاتمے اور خطے میں امریکہ کی زیادہ طلبیوں کا مقابلہ کرنے میں بھی ناقابلِ انکار ہے۔
حرم مطہر امام حسین(ع) کے خادم سید ضیاء الحسینی نے اس ملاقات میں کہا: جیسے جیسے ہم عاشورا کے قریب آتے ہیں، شیعیان کا غم و اندوہ ائمہ اطہار علیہم السلام کی مظلومیت پر اور دوسری طرف ہماری ان سے محبت بھی بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے جنگ رمضان کا حوالہ دیتے ہوئے انقلاب اسلامی کے عظیم الشان رہبر امام خامنہ ای کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا: ایران نے حالیہ واقعات میں ثابت کیا کہ وہ نہ صرف طاقتور ہے بلکہ اسلامی مبانی کے مطابق بھی عمل کرتا ہے۔
حرم مطہر امام حسین(ع) کے خادم نے کہا: دشمن سمجھتا تھا کہ ایران پر حملہ کر کے کامیاب ہو سکتا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ نے میدان جنگ میں اسلامی مبانی پر عمل کیا اور اسی وجہ سے دنیا کے آزادی پسند اور مسلمان ایران کی طرف مائل ہوئے۔
سید ضیاء الحسینی نے مزید کہا: جمہوریہ اسلامی ایران نے حالیہ جنگ میں نہ صرف ایران کا پرچم بلکہ شیعہ اور اسلام کا پرچم بھی بلند کیا۔ ایران اور عراق کے عوام دین، مذہب اور امیرالمومنین علی بن ابیطالب علیہما السلام اور امام حسین علیہ السلام کی محبت کے سائے میں ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں۔









آپ کا تبصرہ